صحافت کا اصل مقصد صرف خبریں پہنچانا ہی نہیں، بلکہ حق گوئی، بے باکی اور عوام کی رہنمائی کرنا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں صحافت و سیاست نظریاتی تھی۔ نوائے وقت پاکستان کا واحد اخبار تھا اور ہے جس نے نہ صرف نظریے بلکہ پاکستانی نظریے کا علم ہمیشہ بلند رکھا۔ جناب مجید نظامی نے اپنی پوری زندگی اسی نظریے کے تحت گزار دی۔ وہ نہ صرف پاکستان کے ممتاز صحافی تھے، بلکہ ایک بااصول، بے خوف اور نظریاتی شخصیت کے مالک بھی تھے۔ ان کی صحافتی خدمات، قومی یکجہتی کے لیے کوششیں اور اسلامی اقدار سے وابستگی انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔
مجید نظامی کا ایک بہت بڑا کردار یہ بھی رہا کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کو پاکستان کی فکری اساس کا احساس دلاتے رہتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سوچ، علامہ اقبال کی فکر اور تحریک پاکستان کے نصب العین کو ملک میں رواج دینے کی کوششوں کو جاری رکھا۔
ویکیپیڈیا کے مطابق "آپ تین اپریل انیس سو اٹھائیسء کو سانگلہ ہل میں پیدا ہوئے، مجید نظامی مرحوم نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں حصول تعلیم کے دوران تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا اور 1946ء کے تاریخ ساز انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے لیے انتخابی مہم میں پیش پیش رہے، تحریک پاکستان میں آپ کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے کالج کے دوسرے طلبہ کے ساتھ انھیں بھی "مجاہد پاکستان" کی سند اور تلوار عطا کی۔
1954ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کرنے کے بعد نوائے وقت کی نمائندگی کے لیے لندن چلے گئے، حمید نظامی کی رحلت کے بعد 25 فروری 1962ء کو روزنامہ نوائے وقت کی باگ ڈور سنبھالی اور اسے صحیح معنوں میں پاکستانی قوم کی آرزوؤں اور امنگوں کا ترجمان اخبار بنا دیا، آپ اس ملک کو قائد اعظم، علامہ محمد اقبال، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی امانت سمجھتے تھے، آپ کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور جابر سلطانوں کے رُوبرو کلمہ حق بلند کرنا ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا، آپ نے اصولوں اور تحریر و تقریر کی آزادی پر نہ تو کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ کبھی کسی مصلحت کو آڑے آنے دیا، آپ کی جرأت و استقامت کے سبھی معترف ہیں، قومی مفادات کی پاسداری آپ کی زندگی کا مشن تھا، حکومت پاکستان کی جانب سے آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپکو ستارہ پاکستان، ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز دیے گئے، وزیر اعلیٰٰ پنجاب نے حکومت پنجاب کی طرف سے ڈاکٹر مجید نظامی کی 70 سالہ صحافتی اور 50 سالہ بطور مدیر روزنامہ نوائے وقت خدمات کے اعتراف میں 27 جولائی 2012ء کو لاہور کی مشہور سڑک لارنس روڈ کا نام شاہراہ مجید نظامی رکھ دیا، ان کی پچاس سالہ صحافت کا مرکز پاکستان کا اسلامی تشخص اور بھارت دشمنی رہا۔
بھارت سے پاکستان کے تعلقات بارے ان کا خاص نقطہ نظر تھا جو نوائے وقت کے اداریوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ وہ شعلہ بیان مقرر تو نہیں تھے لیکن ان کے دھیمے لہحے میں گفتگو اتنی کاٹ دار ہوتی تھی کہ مخالفین کے دل دہل جاتے تھے، آپ 27 رمضان المبارک 26 جولائی 2014ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے "۔ مجید نظامی نے ہمیشہ اسلام، پاکستان اور نیشنلزم کو اپنی صحافت کا مرکز بنائے رکھا۔ ان کا اخبار "نوائے وقت" صرف خبروں کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ایک نظریاتی تحریک تھا۔ انہوں نے کبھی بھی حکومتی دباؤ یا مالی لالچ کے آگے سر نہیں جھکایا۔ ان کی صحافت کا بنیادی مقصد حق کی بالادستی، اسلامی اقدار کی ترویج اور پاکستان کی سالمیت کی حفاظت تھا۔
مجید نظامی نے کبھی بھی سچ بولنے سے گریز نہیں کیا، چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑا۔ وہ کہتے تھے، "صحافت ایماندارانہ رپورٹنگ کا نام ہے، اگر آپ سچ نہیں بول سکتے، تو پھر صحافت کو اپنا پیشہ نہ بنائیں"۔
مجید نظامی پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔ انہوں نے 1971ء کے بحران کے دوران بھی مشرقی پاکستان کے عوام کے حقوق کی آواز بلند کی۔ وہ پاکستان کے استحکام کے لیے کسی بھی قسم کی تقسیم کے سخت خلاف تھے۔ ان کا اخبار ہمیشہ قومی اتحاد و اقدار کا علمبردار رہا۔
مجید نظامی کی صحافت کا ایک اہم پہلو اسلامی تعلیمات کی اشاعت تھا۔ انہوں نے نوائے وقت کے ذریعے معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ دیا۔ رمضان المبارک کے دوران خصوصی ایڈیشنز، اسلامی تاریخ اور سیرت النبی ﷺ پر مضامین شائع کرنا ان کا طرہ امتیاز تھا۔ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ پاکستان ایک حقیقی اسلامی ریاست بنے۔ مجید نظامی کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کے حامی نہیں رہے، بلکہ وہ ہمیشہ حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ کہتے تھے، "صحافی کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہوتا، اس کا نظریہ صرف اور صرف سچ ہوتا ہے"۔
انہوں نے کبھی بھی کسی حکومت کی خوشامد نہیں کی، بلکہ ہر دور میں عوام کے حقوق کی بات کی۔
مجید نظامی کو قلم کی طاقت پر پورا یقین تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ قلم ہی وہ ہتھیار ہے جو باطل کو شکست دے سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی۔ ان کے اداریے اور کالم ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتے تھے۔
26 جولائی 2014ء کو لیلتہ القدر کی رات مجید نظامی اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ نوائے وقت آج بھی ان کے اصولوں پر کاربند ہے۔ ان کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ کیسے ایک شخص بے خوفی، ایمانداری اور اصولوں پر قائم رہ کر معاشرے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔