کڑوا سچ یہ ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنے فرائض بھول بھال کر اتھارٹی منوانے کے جنون کا شکار ہوجائے تو پھر ریاست اور شہریوں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج ہر گزرنے والے دن کے ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
ایک رائے وہی ہے جو نصف صدی سے ان سطور میں تواتر کے ساتھ عرض کرتا آرہا ہوں کہ سکیورٹی اسٹیٹ اور ساجھے دار طبقاتی نظام میں رعایا کے حقوق ہی نہیں ہوتے تو ریاست کے فرائض کیا ہوں گے۔ دونوں (سکیورٹی اسٹیٹ اور ساجھے دار طبقاتی نظام) اپنے وجود اور دبدبے کو قائم و دائم رکھنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔
ریاست کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ قوانین کے اطلاق کے ساتھ خود بھی ان کی پاسداری کرے۔ طبقاتی استحصال کو پنپنے نہ دے۔ ملکی وسائل پر مساوی حق کو یقینی بنائے۔ عام آدمی کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے۔ سادہ لفظوں میں یہ کہ تعلیم، طبی سہولتوں، روزگار اور ڈھب سے زندگی گزارنے کا ماحول و مواقع ریاست نے فراہم کرنا ہوتے ہیں۔ اس کے بدلے میں ریاست اپنے شہریوں سے قانون کی پاسداری، محصولات کی بروقت ادائیگی، سماجی ارتقا اور ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔
ہمارے یہاں باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں ریاست صرف تقاضے کرتی ہے جان کی امان رہے تو عرض کروں ہم ایسے سلاٹر ہائوس میں رہتے ہیں جہاں پتہ نہیں کس وقت قصائی گردن اور کھال اتارنے کا عمل شروع کردیں۔
ماچس تک خریدنے پر سیلز ٹیکس دینے والے لوگوں کو ریاست بدلے میں کیا دیتی ہے؟ یہ جان کر آپ کے "چودہ میں سے اٹھارہ" طبق روشن ہوسکتے ہیں۔ میں آپ کے سامنے صرف ایک مثال رکھتا ہوں، آئی ایم ایف 2015ء سے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ڈیفنس پنشن کو ڈیفنس بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔ (یاد رہے کہ ڈیفنس پنشن کو سول بجٹ کا حصہ مرحوم جنرل مشرف کے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے بنایا تھا) اس کی دو وجہات ہیں پہلی یہ کہ ڈیفنس پنشن سول پنشن کے مقابلے میں لگ بھگ چار سو فیصد زیادہ ہے۔
دوسری وجہ خود دفاعی اخراجات میں سالانہ اضافہ ہے اس اضافے کے باوجود ڈیفنس پنشن کا سول بجٹ میں مسلسل قیام ایک بوجھ ہے۔ ستم یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے جب بھی ڈیفنس پنشن کو دفاعی بجٹ کا حصہ بنانے کی اپنی تجویز پر عمل کی صورتحال سے آگاہی چاہی ہمارے اکابرین اقتدار و اختیار نے کہنا شروع کردیا کہ آئی ایم ایف پنشن کے پورے حساب کتاب کا خاتمہ چاہتا ہے۔
یہاں کتنے لوگوں کو معلوم ہے کہ مشکل سے دو سو ارب کی سول پنشن کے مقابلے میں ڈیفنس پنشن کتنی ہے؟
یہ ایک مثال ہے مجھے یقین ہے کہ اس پر ایک طبقے کی حب الوطنی کی باسی کڑی میں ابال آئے گا لیکن کوئی یہ جرات نہیں کرے گا کہ سوال کرے کہ اس گورکھ دھندے سے سول بجٹ پر غیرضروری مدوں کے اخراجات میں اضافے کا بوجھ کیوں ڈالا جارہا ہے۔
ویسے ڈیفنس کا شعبہ اپنے کاروباروں کی بدولت اس پوزیشن میں ہے کہ اگر وہ چاہے تو کم از کم ڈیفنس پنشن کا بوجھ بٹاسکتا ہے یعنی کہ دفاعی شعبہ کے تمام کاروبار منافع بخش ہیں۔
اسی طرح ہمارے منتخب نمائندگان ہیں یعنی قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان وفاقی و صوبائی وزراء مشیر خصوصی ایڈوائزر وغیرہ۔ حال ہی میں ان سب کی تنخواہوں اور مراعات میں جو اضافہ کیا گیا ہے یہ اگر نہ کیا جاتا تو کیا ان سب نے لنگر کی کھا کر لائن میں سونا اور فطرانے کے لئے دست سوال دراز کرنا تھا؟
جی نہیں ان کی اکثریت سماج کے بڑے طبقات سے تعلق رکھتی ہے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ایک نشست کے انتخابی اخراجات کا بوجھ (کاغذات میں درج نہیں بلکہ انتخابی مہم میں یقیناً خرچ ہونے والے) کیا ایک عام سفید پوش شہری اٹھاسکتا ہے؟ پارلیمنٹ کے تینوں ایوانوں کے کل ارکان میں سے 10 فیصد بھی مشکل سے معاشرے کے عام طبقات سے تعلق رکھتے ہیں پھر بھی ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اس کے باوجود اضافہ کیا گیا کہ عام شہری کو صبح شام یہ سننا پڑتا ہے کہ ملک کو معاشی مسائل لاحق ہیں۔
کیا ان معاشی مسائل کا ذمہ دار عام شہری ہے؟ یہی ریاست حکمران طبقات اور پالیسیاں بنانے و الے ہی مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ کیوں انہوں نے قرضے کی رقم سے سارے "شوق" پورے کرنے کو زندگی کا اصل سمجھ کر اپنالیا؟
سو یہ کہنا غلط نہیں کہ پارلیمنٹ کے تینوں ایوانوں (قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ) کے ارکان وفاقی و صوبائی وزراء مشیروں اور خصوصی ایڈوائزروں کے لشکروں کی تنخواہوں اور مراعات میں حالیہ اضافہ صریحاً ظلم تھا اور ظلم ہی سمجھا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ سال بھر سے کچھ اوپر کے وقت میں ان منتخب ایوانوں میں عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ مہنگائی کا سیلاب بلا ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے، سرکاری ملازمتوں کی ڈائون سائزنگ کے پروگرام پر عمل جاری ہے۔ سول پنشن کے قواعد تبدیل کئے جارہے ہیں۔ وفاق اور چاروں صوبے مستقبل میں مستقل سرکاری ملازمت کی جگہ تین سے پانچ برس کی کنٹریکٹ ملازمتیں دیں گے۔ اس مدت میں کارکردگی کی بنا پر توسیع ہوتی رہے گی۔
پنشن اور سالانہ ترقیوں (تنخواہوں میں) اضافے کے سابقہ نظام کی جگہ نیا نظام لاگو ہوگا۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ تعلیم، طب اور بنیادی سہولتوں کو کاروبار بنادیا گیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں (سکولوں اور کالجوں) میں تعلیمی معیار اتنا شاندار ہے کہ ہر شخص اپنے بچے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانا چاہتا ہے۔
جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تعلیم کے ادارے کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے فنی تعلیم کے اداروں کے قیام کی سرکاری طور پر پالیسی کیا رہی اور کیا مستقبل میں کچھ بہتری آنے کا امکان ہے اس سوال پر دماغ کھپانے کی ضرورت نہیں۔
امن و امان کی صورتحال آپ سب کے سامنے ہے۔ ملک کے دو اہم صوبے دہشت گردی سے جس بری طرح متاثر ہیں اس کی پردہ پوشی ممکن نہیں۔
یہ قوانین تو بنائے جاتے ہیں کہ سوال اور تنقید کرنے والوں کا گلا کیسے دبانا ہے لیکن ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ ملک ترقی کرے اور ہر شخص اس ترقی میں حصہ ڈالے۔
اس پر ستم یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا شعبہ ریاست اور طاقتور طبقات کا بھونپو بن کر رہ گیا ہے۔ تقسیم کرو اور وقت گزارو کے اصول پر عمل ہرہا ہے۔ کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں کہ دل پر ہاتھ رکھ کر یقین سے کہا جاسکے کہ اس شعبہ نے عوام کے حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام میں کردار ادا کیا ہے۔
جمہوریت کے لالی پاپ طبقاتی نظام کی فیکٹریوں میں بنتے ہیں۔ ہمارے چار اور یہی سب کچھ ہے جو بالائی سطور میں تفصیل کے ساتھ عرض کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ ان مسائل میں کمی کیسے لائی جاسکتی ہے؟ عرض یہ ہے کہ تمام غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ دفاعی بجٹ میں بھی توازن لازمی ہے۔
ہر قسم کے اللوں تللوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ فنی تعلیم اور کاٹیج انڈسٹری کو رواج دینا ہوگا۔ حکومت تعلیم، طب اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داریاں نبھائے۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی لانے کے لئے اقدامات کرے۔
ساعت بھر کے لئے رکئے ان سارے کاموں سے پہلے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، مذہب اور بعض قوانین کو کاروبار بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس کے بغیر اصلاح احوال کی کوئی بھی صورت ممکن نہیں۔
"ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں"۔